اس سال دنیا کی دونوں بڑی رینکنگز میں پاکستان کی سب سے آگے یونیورسٹی اسلام آباد کی Quaid-i-Azam University ہے۔ THE World University Rankings 2027 (جو 30 ستمبر 2026 کو شائع ہوئی) میں یہ 551–600 کے گروپ میں ہے، اور QS World University Rankings 2027 (جو 18 جون 2026 کو شائع ہوئی) میں اس کا نمبر =381 ہے۔ دونوں میں NUST اس کے بالکل قریب ہے۔
یہ رینکنگز ہر سال بدلتی ہیں اور انہیں شائع کرنے والے اداروں کی ملکیت ہیں۔ اس لیے یہ اعداد و شمار صرف اس سال کی تصویر ہیں۔ تازہ معلومات کے لیے ہمیشہ شائع کرنے والے ادارے کی ویب سائٹ دیکھیں۔
کتنی پاکستانی یونیورسٹیاں رینکنگ میں ہیں
THE 2027 میں دنیا بھر کی 2,297 یونیورسٹیاں شامل ہیں، اور ان میں 56 پاکستانی یونیورسٹیوں کو رینک ملا ہے، جیسا کہ Dawn نے بتایا۔
خبروں میں آپ نے 108 کا عدد بھی سنا ہوگا۔ اس میں 52 ایسے ادارے شامل ہیں جنہیں THE نے "Reporter" لکھا ہے۔ یعنی انہوں نے اپنا ڈیٹا بھیجا لیکن رینک کی شرائط پوری نہیں ہوئیں۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ 108 پاکستانی یونیورسٹیاں رینک ہوئی ہیں۔ رینک صرف 56 کو ملا ہے۔
QS 2027 میں دنیا کے 1,504 ادارے ہیں، اور ان میں 18 پاکستانی یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ کوئی بھی پاکستانی یونیورسٹی دنیا کی پہلی 350 میں نہیں۔
THE 2027 میں سب سے آگے پاکستانی یونیورسٹیاں
THE نیچے کے نمبروں پر ہر یونیورسٹی کا الگ نمبر نہیں دیتا بلکہ انہیں گروپوں (bands) میں رکھتا ہے۔ ایک ہی گروپ کی یونیورسٹیاں برابر نہیں ہوتیں، بس ان کی اندرونی ترتیب شائع نہیں کی جاتی۔ 16 پاکستانی یونیورسٹیاں 801–1000 کے ایک ہی گروپ میں ہیں، اس لیے پاکستان کی "ٹاپ 10" کی کوئی درست فہرست بنتی ہی نہیں۔ اس گروپ سے اوپر یہ چھ یونیورسٹیاں ہیں:
801–1000 کے گروپ میں University of the Punjab، UET Taxila، GIK Institute، Air University، International Islamic University Islamabad اور GC University Lahore سمیت 16 یونیورسٹیاں ہیں۔ LUMS اس سال 1001–1200 کے گروپ میں ہے۔ THE اپنے کل وزن کا 59% تحقیق کے دو حصوں (research environment اور research quality) کو دیتا ہے، اس لیے کوئی یونیورسٹی THE اور دوسری فہرستوں میں بہت مختلف جگہ پر ہو سکتی ہے۔
QS 2027 میں سب سے آگے پاکستانی یونیورسٹیاں
QS زیادہ یونیورسٹیوں کو الگ الگ نمبر دیتا ہے۔ "=" کا مطلب ہے کہ یہ نمبر کسی اور کے ساتھ مشترک ہے۔
غور کریں کہ ایک ہی یونیورسٹی دونوں فہرستوں میں کتنی مختلف جگہ پر ہے۔ LUMS، QS میں پاکستان میں پانچویں نمبر پر ہے لیکن THE میں پہلی 20 سے باہر۔ ایک وجہ یہ ہے کہ دونوں ادارے مختلف چیزیں مختلف وزن سے ناپتے ہیں۔ تفصیل ہمارے مضمون THE اور QS رینکنگ کیسے بنتی ہیں میں ہے۔
ایشیا کی رینکنگ (2026 ایڈیشن)
- THE Asia University Rankings 2026 (23 اپریل 2026) میں 48 پاکستانی یونیورسٹیاں ہیں۔ سب سے آگے Quaid-i-Azam University ہے، =148 پر۔
- QS Asia University Rankings 2026 (نومبر 2025) میں 82 پاکستانی یونیورسٹیاں ہیں۔ سب سے آگے NUST (68)، Quaid-i-Azam University (89)، LUMS (129)، COMSATS (150) اور University of the Punjab (151) ہیں۔
QS Asia کا 2027 ایڈیشن نومبر 2026 میں آ سکتا ہے، اس لیے بعد میں پڑھ رہے ہوں تو topuniversities.com پر تازہ نتائج دیکھ لیں۔
کیا HEC یونیورسٹیوں کی رینکنگ کرتا ہے؟
HEC (ہائر ایجوکیشن کمیشن، جو پاکستان میں یونیورسٹیوں کو تسلیم کرتا اور ڈگریوں کی تصدیق کرتا ہے) کی اس وقت کوئی موجودہ رینکنگ ہمیں نہیں ملی۔ اس کی آخری عام رینکنگ "2015" کے نام سے فروری 2016 میں آئی تھی، جس میں 2014-15 کا ڈیٹا استعمال ہوا تھا۔ وہ اب دس سال پرانی ہے اور آج یونیورسٹی چننے کے لیے اس پر بھروسہ نہ کریں۔
اگست 2023 میں HEC نے رینکنگ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن ہمیں اس کے شائع شدہ نتائج نہیں ملے۔
والدین کے لیے رینک سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یونیورسٹی اور اس کا وہ مخصوص کیمپس HEC سے تسلیم شدہ ہو۔ فیس دینے سے پہلے یہ ضرور دیکھیں، ورنہ بعد میں ڈگری کی HEC تصدیق میں مشکل ہو سکتی ہے۔
والدین یہ رینکنگز کیسے استعمال کریں
رینکنگ ایک اچھا آغاز ہے، لیکن یہ صرف پوری یونیورسٹی کی تحقیق، شہرت اور بین الاقوامی روابط کو ناپتی ہے۔ یہ نہیں بتاتی کہ آپ کے بچے کو اس کے مضمون میں کیسی تعلیم ملے گی۔ اس لیے یہ باتیں بھی دیکھیں:
- مضمون دیکھیں، صرف مجموعی نمبر نہیں۔ ہو سکتا ہے کوئی یونیورسٹی مجموعی طور پر پیچھے ہو لیکن کسی ایک شعبے میں مضبوط ہو۔ ہمارا مضامین کی رینکنگ کا مضمون دیکھیں۔
- HEC سے منظوری یونیورسٹی، کیمپس اور پروگرام تینوں کی تصدیق کریں۔ انجینئرنگ یا میڈیکل جیسی ڈگریوں کے لیے متعلقہ پیشہ ورانہ کونسل کی منظوری بھی دیکھیں۔
- پورا خرچ جوڑیں۔ فیس، ہاسٹل، آنے جانے اور رہنے کا خرچ شہر کے حساب سے بہت مختلف ہوتا ہے۔ اونچا رینک ایسے قرض کے قابل نہیں جو گھر نہ اٹھا سکے۔ ہمارا خرچ کا حساب لگانے والا ٹول مدد کر سکتا ہے، اور ضرورت ہو تو HEC Need-Based Scholarship ضرور دیکھیں۔
- چھوٹے فرق پر فیصلہ نہ کریں۔ ایک گروپ اوپر یا نیچے ہونے سے تعلیم کے معیار میں بڑا فرق نہیں پڑتا، اور یہ نمبر ہر سال بدلتے ہیں۔
- آگے کا سوچیں۔ اگر بچہ بعد میں بیرونِ ملک ماسٹرز کرنا چاہتا ہے تو یونیورسٹی کا رینک جو بھی ہو، اچھا CGPA (یونیورسٹی کے مجموعی نمبر) اور اساتذہ کی سفارش درخواستوں میں کام آئیں گے۔
یاد رکھیں کہ رینکنگز یونیورسٹیوں کے اپنے بھیجے ہوئے ڈیٹا اور شہرت کے سروے پر چلتی ہیں، تحقیق کو تدریس سے زیادہ اہمیت دیتی ہیں، اور بہت سی اچھی پاکستانی یونیورسٹیاں ان میں حصہ ہی نہیں لیتیں۔ کسی فہرست میں نام نہ ہونا کمزوری کی علامت نہیں۔
اب کیا کریں
بچے کے ساتھ بیٹھ کر تین سے پانچ یونیورسٹیوں کی فہرست بنائیں جو مطلوبہ پروگرام پیش کرتی ہوں۔ ہر ایک کے لیے HEC منظوری، مضمون میں اس کی پوزیشن، سال بھر کا کل خرچ اور داخلہ ٹیسٹ کی تاریخیں دیکھیں۔ آخری فیصلے سے پہلے timeshighereducation.com اور topuniversities.com پر خود رینکنگ دیکھ لیں، کیونکہ آخری بات شائع کرنے والے ادارے کی ہی ہے۔